8

تاجروں اور ایف بی آر میں معاہدہ طے پا گیا

صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ کا کہنا ہے کہ تاجروں اور ایف بی آر کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اجمل بلوچ کے مطابق شناختی کارڈ کی شرط پر خریدو فروخت پر کارروائی 31 جنوری تک موخر کر دی گئی ہے جبکہ 2- 10 کروڑ تک کی ٹرن اوور والا ٹریڈر 5-1 فیصد ٹرن اوور ٹیکس کے بجائے 5-0 فیصد ٹرن اوور ٹیکس دے گا۔

اجمل بلوچ کا کہنا ہے کہ 3- 10 کروڑ تک کی ٹرن اوور والا ٹریڈر ودہولڈنگ ایجنٹ نہیں بنے گا اور سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن کے لیے سالانہ بجلی کے بل کی حد 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کم منافع رکھنے والے سیکٹرز کے ٹرن اوور ٹیکس کا تعین ازسرنو کیا جائے گا جو تاجروں کی کمیٹی کی مشاورت سے ہوگا، تاجروں پر مشتمل ریجنل اور مرکزی سطح پر کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے جو ایف بی آر کے ساتھ تاجروں کےجملہ مسائل حل کریں گیں۔

اجمل بلوچ نے مزید کہا کہ جیولرز ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر جیولرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، آڑھتیوں پر تجدید لائسنس فیس پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا جبکہ ٹریڈرز کے مسائل کے فوری حل کے لیے اسلام آباد ایف بی آر میں خصوصی ڈیسک قائم ہوگا۔

انہوں نے طے پا جانے والے معاہدے سے متعلق مزید بتاتے ہوئے کہا کہ 20 سے 21 گریڈ کا افسر تعینات ہو گا، ماہانہ بنیادوں پر ٹریڈرز کے نمائندوں سے ملاقات ہوگی، نئے ٹریڈرز کی رجسٹریشن/ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے لیے اردو میں آسان اور سادہ فارم مہیا کیا جائے گا۔

اجمل بلوچ نے کہا کہ ایک ہزار مربع فٹ کی کون سی دُکان سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن سے مستثنیٰ ہوگی اس کا فیصلہ تاجروں کی کمیٹی کی مشاورت سے ہوگا جبکہ ریٹیلرز جو ہول سیل کا بزنس بھی کررہا ہے، ان کی سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن کا فیصلہ تاجروں کی کمیٹی کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں