واپس جائیں

شوکت نواز میر گمشدگی کیس، ایس ایچ او دیرکوٹ آزاد کشمیر ہائی کورٹ طلب

23 Oct 2026, 01:53 PM
شوکت نواز میر گمشدگی کیس، ایس ایچ او دیرکوٹ آزاد کشمیر ہائی کورٹ طلب

 


 مظفر اباد:آزادکشمیر ہائی کورٹ نے شوکت نواز میر گمشدگی کے مقدمے میں ایس ایچ او تھانہ دھیرکوٹ کو 29 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔شوکت نواز میر کی بہن یاسمین میر نے عدالت میں شوکت نواز میر کی بازیابی سے متعلق درخواست 15 جولائی 2026 کو دائر کی گئی تھی۔شوکت نواز میر کے اہلخانہ کی جانب سے ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ میر پولیس کی مبینہ غیرقانونی حراست میں ہیں اور یہ کہ اُن کی بازیابی یقینی بنائی جائے، آزادکشمیر پولیس نے عدالت کو بتایا تھا شوکت میر پولیس یا ریاست جموں کشمیر کے کسی محکمہ کی تحویل میں نہیں ہیں بلکہ روپوش ہیں،عدالت میں گذشتہ چار سماعتوں کے دوران آزادکشمیر پولیس نے اپنی تبصرہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ شوکت نواز میر کے خلاف ضلع راولاکوٹ میں تین، ضلع باغ میں 22 اور ریاستی دارالحکومت مظفرآباد میں 17 مقدمات درج ہیں جن میں کئی مقدمات انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج ہیں۔ بی بی سی کے مطابق لگ بھگ تین ماہ قبل، 30 جون 2026 کو عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا تھا کہ شوکت نواز میر کو دھیرکوٹ کے علاقے سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل رہی، آزادکشمیر کی پولیس اور انتظامیہ نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ متعدد مقدمات میں مطلوب شوکت نواز میر پولیس یا ریاستی تحویل میں نہیں ہیں، اُن سے متعلق اطلاع دینے پر انعام بھی مقرر کیا گیا اور یہ کہ وہ گرفتاری کے خوف سے کہیں چھپے ہوئے ہیں۔عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری کے مقدمے میں عدالت نے تین درخواستیں منظور کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ دھیرکوٹ کو 29 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ ۔شوکت نواز میر کی بہن یاسمین میر کی جانب سے دائر ان درخواستوں پر ان کے وکیل شاہد علی اعوان نے پیروی کی۔شاہد علی اعوان نے سماعت سے متعلق بی بی سی اردو کو بتایا کہ پہلی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ شوکت نواز میر کو تھانہ دھیرکوٹ کے ایس ایچ او کی موجودگی میں گرفتار کیا گیا، ان کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں بھی شوکت نواز میر کو ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ایس ایچ او کو طلب کرکے وضاحت لی جائے کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والا واقعہ کیا تھا اور آیا شوکت نواز میر کو پولیس نے گرفتار کیا تھا یا نہیں۔ وکیل شاہد علی اعوان کے مطابق شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری کی ویڈیو اور اُس وقت کے وزیرِ قانون میاں عبدالوحید کا مبینہ بیان کا ریکارڈ جمع کرایا گیا ہیوکیل شاہد علی اعوان نے بتایا کہ تیسری درخواست سمیت تینوں درخواستوں پر حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل آفس کے وکلا نے اعتراضات اٹھائے تھے، تاہم عدالت نے یہ اعتراضات مسترد کرتے ہوئے درخواستیں منظور کر لیں۔عدالت نے ایس ایچ او تھانہ دھیرکوٹ کو 29 اکتوبر کو طلب کر لیا ہے تاکہ شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری سے متعلق معاملے پر وضاحت حاصل کی جا سکے۔وکیل کے مطابق یاسمین میر کے بھائی گل نواز میر کو بھی اس مقدمے میں درخواست گزار بنانے کی درخواست منظور کر لی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں