شہزاد راٹھور ڈرگ مافیا کا بھتہ خور ہے، اب معافی نہیں مل گی، عرفان سلیم
شہزاد راٹھور ڈرگ مافیا کا بھتہ خور اور ایک ناسور ہے، ایک بار معافی دی تھی اب نہیں ملے گی۔
عرفان کیانی سال 2007 میں اپنے رشتہ دار کے قتل کیس کی تفتیش کے سلسلہ میں میرے آفس آتا تھا اس کے بعد آج تک کوئی رابطہ نہیں۔
عرفان سلیم سابق ڈی آئی جی پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شہزاد راٹھور نامی شخص نے گزشتہ روز اپنی اخبار “دی کوٹلینز اور “Freedom post” کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی اسلام آباد میں گرفتار ہونے والے عرفان کیانی کے ساتھ میرے بہت قریبی تعلقات اور دوستی ہونے کی جھوٹی اور بے بنیاد تشہیر شروع کی ہوئی ہے۔ شہزاد راٹھور نے کچھ عرصہ قبل بھی کوٹلی میں ہیروئن اسمگلرز سے پیسے لے کر میرے اور میرے بھائیوں کے خلاف اسی طرح کی بھونڈی اور مذموم کوشش کی تھی اور جب میں قانونی کاروائی کرنے لگا تھا تو اسلام آباد پریس کلب کے صدر اور چند بہت قریبی دوستوں کے اصرار پر میں نے اسے معاف کر دیا تھا۔ اب شہزاد راٹھور کو یہ سب الزامات ثابت کرنا ہوں گے ورنہ قانونی کاروائی کے لیے تیار رہے۔اس سازش میں شامل ایک ایک کردار کا مجھے بخوبی علم ہے۔
عرفان سلیم نے مزید بتایا کہ سال 2008-2007 میں جب میں نے بطور ڈی ایس پی ڈڈیال، بھیلی بٹھار میں 32 مقدمات میں ملوث مجرمان اشتہاری کا بہت بڑا گینگ گرفتار کیا تھا تو اس دوران باقی لوگوں کی طرح عرفان کیانی بھی اپنے ایک رشتہ دار کے قتل کیس کی تفتیش کے سلسلہ میں میرے آفس آیا کرتا تھا لیکن 2008 کے بعد آج تک میرا اس سے کوئی رابط نہیں ہے۔
سال 19-2017 کے دوران میں نے ایس ایس پی کوٹلی کی حیثیت سےانٹرنیشنل ہیروئن اسمگلرز راجہ مشتاق نوابی گینگ کو گرفتار کر کے 14 کلو گرام ہیروئن اور درجنوں لیدر جیکٹس برآمد کی تھیں۔تفتیش کے دوران پایا گیا تھا کہ یہ گینگ گزشتہ 28 سالوں سے ڈرگ کا کام کر رہا تھا اور قبل ازیں 500 کلو گرام سے زائد ہیروئن برطانیہ سمگل کر چکا تھا۔ تفتیش کے دوران بھمبر کے رہائشی ایک ریٹائرڈ ایس ایس پی جو مجھ سے پہلے کوٹلی تعینات تھےسمیت چار پولیس آفیسران ان سمگلرز سے کروڑوں روپے بھتہ لے کر انکی سرپرستی کرنا پائے گئے تھے ۔ ان پولیس آفیسران اور شہزاد راٹھور نے اسمگلرز سے پیسے لے کر میرے اور میرے بھائیوں کے خلاف اخبار میں اور سوشل میڈیا پر خلاف حقائق اور جھوٹی مہم بھی چلوائ تھی تا کہ پولیس کو defensive کر کے اسمگلرز کو مقدمات میں رعایت دلوائی جا سکے۔ میری رپورٹ پر آئی جی صاحب نے انکوائری کروا کے تین آفسران کو سروس سے ڈسمس کر دیا تھا جب کہ ایس پی کے خلاف گورنمنٹ نے طاہر قریشی ایڈیشنل آئی جی صاحب سے الگ انکوائری کروآئی تھی، انکوائری رپورٹ میں الزامات ثابت ہوئے تھے اور سزا دینا ابھی باقی تھا کہ اسی دوران سال 2023 میں وزیر اعظم تبدیل ہو گئے تھے اور نئے وزیر اعظم نے وہ انکوائری پینڈنگ کر دی تھی ۔
عرفان سلیم نے کہا کہ اللّٰہ نے مجھے 35 سال لوگوں کی خدمت کرنے کا موقع دیا ہے، میں نے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی عرصہ یہ فرض نبھانے میں صرف کیا ہے۔ دوران سروس بڑے سے بڑے کریمینل گینگز پر ہاتھ ڈالا اور مافیاز کو قانون کے کٹہرے میں لایا۔ اللّٰہ نے مجھے میری اس محنت کے صلہ میں تین “صدارتی پولیس میڈلز” ایک “قائد اعظم پولیس میڈل” دو “گولڈ میڈلز” حکومت پاکستان کی جانب سے “تمغہ امتیاز” اور 211 کارکردگی ایوارڈز سے نوازا ہے۔ اس سارے سفر کے دوران جہاں میں نے اپنی زندگی کو بہت بار خطرات میں ڈالا وہاں اپنے اور اپنے بھائیوں کے خلاف چند مخصوص عناصر کی جانب سے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات پر مبنی منفی پروپیگنڈا اور میڈیا ٹرائل کا بہت بار سامنا کیا۔ ساری سروس جرائم پیشہ لوگوں ، حاسدین اور مافیاز کی سازشوں کا مقابلہ کیا۔ سال 2022 میں جب میں برطانیہ تھا تو انہی اسمگلرز نے ان پولیس آفیسران اور ابرار قریشی (YouTuber( کے ذریعے سازش کر کے ایک روز جب میں روزہ کی حالت میں تھا انٹرویو کے بہانے گھٹیااور جھوٹ پر مبنی سوالات پوچھے اور میرے جوابات کٹ کر کے پیش کیے جنکی بعد میں ابرار قریشی کو خود ہی تردید کرنا پڑی۔ ایک سابق وزیر اعظم ان سب مافیاز اوراپنے حواریوں کے ساتھ مل کر اڑھائی سال تک اس کوشش میں لگا رہا کہ میرے خلاف کسی قسم کی کرپشن یا جرائم پیشہ لوگوں سے لنک ہونے کا کوئی ثبوت ملے لیکن کچھ نہ مل سکا۔
الحمدُ للہ ، ہم سب بھائیوں کی پرورش رزق حلال سے ہوئی ہے اور رزق حلال ہی کمایا ہے۔سب سے بڑے بھائی یونیورسٹی میں گریڈ 18 میں ریٹائرڈ ہوئے ہیں، ایک چھوٹا بھائی25 سال سے برطانیہ میں food کا بزنس کر رہا ہے اور دوسرا 20 سال سے پاکستان میں Oil Marketing Company کا مالک ہے اور ساتھ real estate کا بزنس بھی کر رہا ہے۔ حاسدین کی یہی سزا ہے کہ وہ اللّٰہ کی تقسیم اور کسی کو دی گئی عزت اور رزق برداشت نہ کر سکیں۔