آزاد کشمیر کی جیلیں انتظامی بحران کا شکار، آفیسروں اور عملے کی شدید قلت
مظفرآباد : محکمہ جیل خانہ جات آزاد جموں و کشمیر اس وقت افسران اور عملے کی شدید قلت کے باعث ایک خاموش مگر سنگین انتظامی بحران سے دوچار ہے، جس کے باعث جیلوں کے اندرونی نظم و ضبط اور مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر خطرات کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کی 7 میں سے 3 اہم جیلیں—ڈسٹرکٹ جیل کوٹلی، پلندری اور راولاکوٹ—مستقل جیل سپرنٹنڈنٹس سے محروم ہیں۔ ان جیلوں کا انتظام عارضی طور پر اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس کے حوالے ہے، جنہیں اضافی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ مجموعی طور پر 7 جیلوں کے لیے محض 4 سپرنٹنڈنٹس دستیاب ہیں، جبکہ کئی مقامات پر اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس کی آسامیاں بھی خالی پڑی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جیلوں میں خطرناک قیدیوں کی موجودگی اور افسران کی عدم دستیابی کے باعث کسی بھی وقت کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے کا اندیشہ ہے۔ عملے کی نفری گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے جمود کا شکار ہے، جبکہ قیدیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نفری کی کمی کی وجہ سے ڈیوٹی پر موجود اہلکار شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں، جس سے سیکیورٹی حصار کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق جہلم ویلی، باغ اور حویلی میں تاحال ڈسٹرکٹ جیلیں قائم نہیں کی جا سکیں، جس کی وجہ سے دیگر اضلاع کی جیلوں پر غیر معمولی بوجھ بڑھ گیا ہے اور قیدیوں کی منتقلی و نگرانی کے مسائل مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔عوامی و سماجی حلقوں نے حکومتِ آزاد کشمیر اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کی سنگینی کا فوری نوٹس لیا جائے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر افسران کی تعیناتی اور خالی آسامیوں پر بھرتیاں کی جائیں تاکہ جیلوں کے نظام کو محفوظ بنایا جا سکے اور کسی ممکنہ سانحے سے بچا جا سکے۔