ٹرمپ کو جھٹکا، کینیڈا نے مزید بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا
ٹورنٹو:جنگی جنون میں مبتلا امریکہ اور ایک اور اتحادی نے جھٹکا دے دیا، کینیڈا کے وزیر اعظم نے بھی یہ اعلان کر دیا کہ "امریکہ کو 70 فیصد دفاعی اخراجات بھیجنے کے دور کا خاتمہ ہو گیا ہے۔" اب کینیڈا یہ سرمایہ اپنے ملک کی بہتری کے لئے استعمال کرے گا، نہ کہ امریکہ کی لاحاصل جنگی عزائم کے لئے امریکہ اب دنیا کی سپر پاور نہیں رہے گی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ دنیا پر امریکہ کی گرفت کمزور ہوتی جا رہی ہے، بہت سے ممالک آہستہ آہستہ یہ طاقت اور غیرت پکڑتے جا رہے ہیں کہ امریکہ سے خوف زدہ رہنے کی بجائے حقیقی آزادی حاصل کریں انہوں نے حال ہی میں امریکہ پر دفاعی انحصار کم کرنے کے حوالے سے ایک اہم بیان دیا ہے، جس کے مطابق کینیڈا کے دفاعی سرمائے کا ایک بڑا حصہ اب امریکہ کے بجائے اپنی ملکی صنعت پر خرچ کیا جائے گا۔ کینیڈا کے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ کینیڈا اب اپنے دفاعی بجٹ کا 70 فیصد حصہ اپنی مقامی کمپنیوں کو دے گا، جبکہ ماضی میں کینیڈا کے دفاعی خریداری کے بجٹ کا تقریباً 70 سے 75 فیصد حصہ امریکی مصنوعات پر خرچ ہوتا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ "امریکہ کو ہر ڈالر میں سے 70 سینٹ بھیجنے کے دور کا اب خاتمہ ہو گیا ہے"۔ اس فیصلے کا مقصد کینیڈا کی دفاعی صنعت میں 1 لاکھ 25 ہزار نئی ملازمتیں پیدا کرنا اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔کینیڈا نے جی ڈی پی کا 2 فیصد دفاع پر خرچ کرنے کا نیٹو کا ہدف حاصل کر لیا ہے اور اب اسے 2035 تک 5 فیصد تک لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔کینیڈا نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی ممکنہ جنگ میں امریکہ کا حصہ نہیں بنے گا۔کینیڈا کا یہ اقدام اپنی "تزویراتی خودمختاری" کو برقرار رکھنے اور امریکی ہتھیاروں پر بھاری انحصار ختم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے