واپس جائیں

بھارت کے اہم وزیر پر امریکہ کے لئے جاسوسی کا الزام

29 Mar 2026, 02:49 PM
بھارت کے اہم وزیر پر امریکہ کے لئے جاسوسی کا الزام

نئی دہلی: وکی لیکس کی جانب سے افشا کی گئی خفیہ امریکی کیبلز نے بھارت کے موجودہ وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ ان کیبلز کے مطابق، ڈاکٹر جے شنکر کے امریکی سفارت کاروں کے ساتھ ''انتہائی قریبی اور دوستانہ'' تعلقات تھے، جس کی وجہ سے کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت ان پر مکمل بھروسہ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی۔ 25 اپریل 2005 کی ایک کیبل کے مطابق، دہلی میں متعین امریکی ناظم الامور رابرٹ بلیک نے واشنگٹن کو بتایا کہ جے شنکر نے خود امریکی سفارت خانے کو فون کر کے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ امریکہ نے گوانتانامو بے میں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف کیوبا کی قرارداد پر بھارت کے 'امریکہ نواز' ووٹ کو نوٹ کر لیا ہے۔ دسمبر 2005 کی ایک اور کیبل میں انکشاف ہوا کہ اس وقت کے بھارتی فارن سیکرٹری شیام سرن کے دورہ واشنگٹن سے قبل ہی جے شنکر نے بھارت کا ''گیم پلان'' اور مذاکراتی نکات امریکی حکام کو بتا دیے تھے۔ اس عمل کو سفارتی حلقوں میں ملکی مفادات کے خلاف ایک بڑا قدم سمجھا جاتا ہے۔ فروری 2010 کی ایک کیبل کے مطابق، جب جے شنکر بیجنگ میں بھارت کے سفیر تھے، انہوں نے امریکی سفیر جون ہنٹس مین سے ملاقات میں چین کے ''جارحانہ رویے'' کو لگام ڈالنے کے لیے امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون کی خواہش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے بھارت کو جاپان، آسٹریلیا اور نیٹو اتحادیوں کے بلاک کے قریب لانے کی وکالت بھی کی تھی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ انہی ''امریکہ نواز'' سرگرمیوں اور وکی لیکس کے انکشافات کے باعث منموہن سنگھ حکومت نے جے شنکر کو نظر انداز کرتے ہوئے سجاتا سنگھ کو فارن سیکرٹری مقرر کیا تھا۔ اس وقت کی حکومت جے شنکر کے اسٹریٹجک جھکاؤ کو بھارت کی روایتی خود مختار خارجہ پالیسی کے لیے خطرہ تصور کرتی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں