مظفرآباد، داماد کے ہاتھوں سسر کے قتل کے افسوسناک واقع پر علاقہ سوگوار
مظفرآباد(نامہ نگار)آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے نواحی علاقے نلوچھی میں پیش آنے والے اندوہناک قتل کے واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ اپنے ہی داماد کے ہاتھوں قتل ہونے والے وحید خان ولد محمد نیاز کی نماز جنازہ نلوچھی گراؤنڈ میں ہزاروں سوگواران کی موجودگی میں ادا کر دی گئی، جس کے بعد انہیں نلوچھی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔نمازِ جنازہ میں سیاسی، سماجی، مذہبی، تجارتی، عوامی، علمی اور ادبی حلقوں سے تعلق رکھنے والے معزز افراد، علاقائی زعماء اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء میں نلوچھی، پولیس لائن اور گوجرہ سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات بھی شامل تھیں، جن میں امیدوار قانون ساز اسمبلی حلقہ نمبر تین سردار مبارک حیدر، راجا ابرار حسین ایڈووکیٹ، ایس پی سیکیورٹی سردار اسرار الحق، راجا شفیق انقلابی، راجا محفوظ خان اور دیگر نمایاں شخصیات شامل تھیں۔پولیس ذرائع کے مطابق مقتول وحید خان پیشے کے اعتبار سے الیکٹریشن تھے اور علاقے میں اپنی دیانتداری اور خوش اخلاقی کے باعث اچھی شہرت رکھتے تھے۔ ان کے والد محمد نیاز ائیر فورس سے وابستہ رہے۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ مقتول نہایت شریف النفس انسان تھے اور حالیہ رمضان المبارک میں اعتکاف میں بھی بیٹھے رہے، جبکہ وہ پانچ وقت کے پابند نمازی تھے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم محمد عمر ولد نیاز، جو کہ مانسہرہ سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں کراچی میں مقیم رہا، نے مبینہ طور پر معمولی تلخ کلامی کے بعد اپنے سسر پر خنجروں سے حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا۔ ملزم کی شادی تقریباً دو سال قبل ہوئی تھی، تاہم گھریلو ناچاقی کے باعث اس کی اہلیہ گزشتہ چھ ماہ سے اپنے میکے میں مقیم تھی۔ ذرائع کے مطابق ملزم بھی گزشتہ تین سے چار ماہ سے سسرال میں ہی رہائش پذیر تھا اور اس کا ایک سالہ بیٹا بھی ہے۔
واقعہ پیش آنے کے بعد ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم مقامی نوجوانوں کی بروقت مداخلت کے باعث اسے موقع پر ہی قابو کر لیا گیا۔ چیئرمین امن اتحاد ایکشن کمیٹی و یونائیٹڈ سوشل فورم نلوچھی طارق خان مغل، راجہ شہریار ابرار اور عثمان فاروق نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی، جس پر پولیس تھانہ سیکرٹریٹ کے عملے نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا اور بعد ازاں تھانہ صدر منتقل کر دیا گیا، جہاں اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قتل کی اصل وجوہات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کی جا رہی ہیں، جن میں گھریلو تنازعات، ذہنی دباؤ اور دیگر عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں اہم انکشافات متوقع ہیں۔
دوسری جانب نماز جنازہ کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں اہل علاقہ اور عزیز و اقارب کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مقتول کے لیے دعائے مغفرت کی۔ مقررین نے اس واقعے کو معاشرتی بگاڑ اور گھریلو تنازعات کے خطرناک انجام کی ایک افسوسناک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے معاشرتی سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
نلوچھی کی 80سالہ تاریخ میں قتل کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ واقعے نے نہ صرف مقتول کے خاندان بلکہ پورے علاقے کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر ایک داماد کس طرح معمولی تنازع پر اس قدر سنگین قدم اٹھا سکتا ہے جس کا ایک معصوم بیٹا بھی ہو۔ اس سوال کا جواب اب پولیس کی جاری تحقیقات سے ہی سامنے آ سکے گا۔