واپس جائیں

سیکرٹری ہیلتھ آزادکشمیر کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کا خطرہ

06 Apr 2026, 11:49 AM
سیکرٹری ہیلتھ آزادکشمیر کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے  کا خطرہ

مظفرآباد(نامہ نگار)بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی،محکمہ صحت عامہ آزاد کشمیر کو لالہ جی کی ہٹی بنانے والے عناصر کے خلاف قانون میدان میں نکل آیا۔عدالت العالیہ آزاد جموں و کشمیر نے محکمہ صحت عامہ کے سیکرٹری برگیڈیئر (ر) عامر رضا ٹیپو کو آج ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا سکتے ہیں۔ یہ حکم عدالت العالیہ کے جج جسٹس خالد رشید چوہدری کی جانب سے جاری کیا گیا۔مذکورہ کیس جہلم ویلی میں تعینات بعض ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق (ویری فکیشن) سے متعلق ہے، جس میں عدالت نے پیشگی طور پر گزشتہ روز 6 اپریل کو سیکرٹری صحت عامہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔ تاہم، مقررہ تاریخ پر سیکرٹری خود عدالت میں پیش نہ ہوئے بلکہ ان کی جانب سے ایک درخواست کے ساتھ سپیشل سیکرٹری صحت عامہ اور دیگر حکام کو عدالت میں بھیجا گیا۔
عدالت نے آج کی سماعت کے دوران پیش کی گئی درخواست کو قبول کرتے ہوئے ایک روز کی مہلت دی، تاہم سختی سے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر سیکرٹری صحت عامہ کی ذاتی حاضری یقینی بنائی جائے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی یا غیر حاضری کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں وارنٹ گرفتاری بھی شامل ہو سکتے ہیں۔سول سوسائٹی اور معروف قانون دانوں کے مطابق، عدالت کی جانب سے سرکاری افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ نہایت سنجیدہ نوعیت کا ہے، خصوصاً جب یہ معاملہ سرکاری ملازمین کی تعلیمی اسناد کی تصدیق جیسے حساس موضوع سے متعلق ہو۔ عدالت ایسے کیسز میں شفافیت، جوابدہی اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے۔
کیس کی پیروی پٹیشنر کی جانب سے نوجوان قانون دان حماد مشتاق جنجوعہ کر رہے ہیں جبکہ ریسپانڈنٹس کی نمائندگی واصف علی گردیزی کر رہے ہیں۔ آئندہ سماعت میں سیکرٹری صحت عامہ کی ممکنہ پیشی اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد اس کیس کی آئندہ سمت کا تعین کرے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں