راولاکوٹ کی طالبہ نے عالمی سطح پر پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا
نیبراسکا، امریکہ:آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت طالبہ دانیہ جاوید نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ امریکہ کی معروف یونیورسٹی آف نیبراسکا-لنکن (UNL) نے خواتین کی تاریخ کے مہینے (Women’s History Month) کی مناسبت سے دانیہ جاوید کو ان کی غیر معمولی خدمات پر باوقار “Leader with a Dream in Action” ایوارڈ عطا کیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، دانیہ جاوید کو یہ اعزاز ان کی اعلیٰ تعلیمی کارکردگی، کالج آف ایجوکیشن اینڈ ہیومن سائنسز میں قائدانہ کردار، اور یو این ایل فلبرائٹ ایسوسی ایشن میں ان کی فعال شرکت کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں نیبراسکا یونین کے سوانسن آڈیٹوریم میں ایک پروقار تقریب بعنوان “She Dared to Dream” منعقد ہوئی، جہاں تعلیمی و سماجی شعبوں سے وابستہ اہم شخصیات نے شرکت کی۔ دانیہ کو اسٹیج پر خصوصی تعریفی سند اور یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔
تقریب کا سب سے رقت آمیز لمحہ وہ تھا جب دانیہ جاوید نے اپنا یہ بین الاقوامی اعزاز اپنے مرحوم والد کے نام منسوب کیا۔ دانیہ کے والد کا انتقال اس کامیابی سے محض 20 روز قبل ہوا تھا۔ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
“میرے والد میرے خوابوں کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ آج وہ جسمانی طور پر موجود نہیں لیکن یہ کامیابی ان کی دعاؤں اور تربیت کا ثمر ہے۔”
دانیہ جاوید کی اس کامیابی کی خبر راولاکوٹ پہنچتے ہی علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سماجی حلقوں اور اساتذہ نے اسے پاکستانی نوجوانوں، بالخصوص طالبات کے لیے ایک روشن مثال قرار دیا ہے۔ ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ دانیہ جاوید جیسی طالبات عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت چہرہ روشن کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
یہ اعزاز اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی نوجوان اگر وژن اور محنت کو اپنا شعار بنا لیں تو دنیا کی کوئی بھی بڑی یونیورسٹی ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔