میرپور میں نوسربازی کی نت نئی وارداتوں میں اضافہ۔دوکاندار پریشان
میرپور/4 اکتوبر 2026/ میرپور شہر میں نوسربازی کی نت نئی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ، مختلف مارکیٹوں میں سرگرم نوسرباز گروہوں نے دوکانداروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا، پولیس نوسربازوں کو قانونی شکنجے میں لانے میں تاحال ناکام، تاجروں میں تشویش پھیل گئی۔
تفصیلات کے مطابق میرپور شہر میں مبینہ طور پر غیر ریاستی عناصر پر مشتمل نوسربازوں کے مختلف گروہ متحرک ہیں جو خریداری کے بہانے دکانوں میں داخل ہو کر دوکانداروں کو مختلف حربوں سے الجھاتے اور کنفیوز کرتے ہوئے نقدی اور قیمتی اشیاء سے محروم کر کے فرار ہو جاتے ہیں۔ چند روز قبل پرانی چونگی کے علاقے میں واقع السید میڈیکل سٹور پر تقریباً دس روز کے وقفے سے نوسربازی کی دو وارداتیں پیش آ چکی ہیں۔
دکاندار کے مطابق ایک واردات میں دو افراد گاہک بن کر میڈیکل سٹور میں داخل ہوئے۔ ایک شخص مختلف اشیاء کے ریٹس پوچھ کر دکاندار کو باتوں میں مصروف اور الجھاتا رہا جبکہ دوسرا مبینہ طور پر تقریباً 11 ہزار روپے مالیت کے دودھ کے ڈبے دکان سے باہر منتقل کرتا رہا۔ اسی دوران رقم کی ادائیگی اور ریٹس میں کمی بیشی کے معاملے پر دکاندار کو مزید الجھایا گیا اور مبینہ طور پر دکاندار کی جانب سے دی گئی رقم واپس لینے کے بعد اسے یہ تاثر دیا گیا کہ بقایا رقم ابھی ادا نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں دکاندار سے مزید 4 ہزار 500 روپے بھی واپس لے لیے گئے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ میڈیکل سٹور پر نوسربازی کی ایسی وارداتیں دو مرتبہ ہو چکی ہیں، جبکہ شہر کی دیگر دکانوں پر بھی اسی نوعیت کی وارداتوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ مسلسل وارداتوں کے باعث تاجروں میں خوف و تشویش پائی جا رہی ہے۔
متاثرہ تاجروں نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نوسرباز گروہوں کی سرکوبی کے لیے مؤثر کارروائی کی جائے، مارکیٹوں میں نگرانی کا نظام بہتر بنایا جائے اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے وارداتوں میں ملوث عناصر کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔