راولاکوٹ میں کشیدگی3 اافراد جاںبحق، 18 ڑخمی،دفعہ 144 نافذ
راولاکوٹ: راولاکوٹ میں جمعرات کی صبح قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے احتجاجی دھرنا ختم کرانے کے لیے کی جانے والی کارروائی کے دوران شدید کشیدگی پیدا ہو گئی، جس کے نتیجے میں 3 نوجوان شہید جبکہ ایک خاتون سمیت 18 افراد زخمی ہو گئے۔ راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے صحافی عمران اعظم اور دیگر ذرائع کے مطابق فائرنگ اور تصادم کے نتیجے میں راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے 3 نوجوان ڈی چوک (عمر فاروق چوک) میں جاں بحق ہو گئے۔ واقعے میں خاتون سمیت 18 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر پلندری اور ہجیرہ کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ زخمیوں میں محمد احتشام، عاطف ادریس، عادل رشید، قمر کفیل، عثمان مقصود، وقار شکیل، انس امین، صیام امجد، اعجاز خان، وقاص ریاض، بلال محمود، احسن طارق، سفیان، عبداللہ، احتشام محمد، کامران رشید، یریرہ، وسیم صادق، عرفان اور زین خورشید شامل ہیں۔ کارروائی کے بعد متیالمیرہ بس ٹرمینل سے دھرنا ختم کروا دیا گیا، تاہم عمر فاروق چوک پر عوام کی بڑی تعداد دوبارہ جمع ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نذیر نے اعلان کیا ہے کہ شہید نوجوانوں کی آج تدفین نہیں کی جائے گی بلکہ ان کی لاشیں عمر فاروق چوک میں رکھ کر احتجاج کیا جائے گا۔ راولاکوٹ میں پیدا ہونے والی شدید کشیدہ صورتحال کے پیشِ نظر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جبکہ شہر کی مساجد سے اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ شہری اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ دوسری جانب، ترجمان ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ریجن پونچھ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق بس ٹرمینل کے قریب عوامی راستوں پر قائم غیر قانونی رکاوٹیں ہٹانے کے لیے قانونی اقدامات کیے جا رہے تھے کہ اس دوران مظاہرین میں موجود مسلح افراد نے پولیس پر اندھادھند فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس کو جوابی کارروائی کرنا پڑی۔ ترجمان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور مسلح افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ وہی مقام ہے جہاں کچھ روز قبل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سدھنوتی کو حبسِ بے جا میں رکھا گیا تھا۔ ترجمان نے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کو گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے شہریوں سے امن و امان کے قیام اور راستوں کی بحالی کے لیے تعاون کی اپیل کی ہے۔