واپس جائیں

امریکی صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور

20 May 2026, 04:27 PM
واشنگٹن امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید فوجی تنازع اور عالمی بحران کے پس منظر میں امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک غیر معمولی اور بڑا جھٹکا دیا ہے۔ سینیٹ نے ایک تاریخی پارلیمانی کارروائی کے دوران قرارداد برائے جنگی اختیاراتکو آگے بڑھا دیا ہے، جس کا مقصد کانگریس کی باقاعدہ منظوری کے بغیر صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف مزید فوجی طاقت استعمال کرنے سے روکنا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق منگل کے روز ہونے والی اس اہم ترین طریقہ کار کی ووٹنگ میں یہ قرارداد 50 کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے منظور کر لی گئی۔ صدر ٹرمپ کے لیے سب سے بڑا دھچکا ان کی اپنی ریپبلیکن پارٹی کے چند سینیٹرز کی بغاوت بنی، جنہوں نے جماعتی لائن سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔ اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ ریپبلیکنز کا ایک چھوٹا لیکن بڑھتا ہوا دھڑا اس طویل ہوتی ہوئی جنگ، نازک جنگ بندی اور مسلسل بڑھتے ہوئے عالمی معاشی نقصانات پر شدید تحفظات کا شکار ہے اور صدر کو چیلنج کرنے کے لیے تیار ہے۔ ووٹنگ سے قبل سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما چک شومر نے صدر ٹرمپ پر سخت ترین الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا:"یہ صدر اس چھوٹے بچے کی طرح ہیں جو بھری ہوئی بندوق کے ساتھ کھیل رہا ہو۔ اگر ہمارے پاس ایران کے ساتھ دشمنی ختم کرنے اور اپنی فوجیں واپس بلانے کی جنگی اختیارات کی قرارداد کی حمایت کا کوئی بہترین وقت تھا، تو وہ یہی ہے۔" یہ ووٹنگ ان قانون سازوں کے لیے ایک بڑی اخلاقی فتح ہے جو طویل عرصے سے یہ موقف اپنائے ہوئے ہیں کہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا فیصلہ کرنے یا فوج بھیجنے کا حتمی اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، صدر کے پاس نہیں۔ اگرچہ یہ ووٹنگ ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی ہے، لیکن اس قرارداد کو قانون بننے کے لیے ابھی طویل اور مشکل سفر طے کرنا ہے۔ منگل کو ہونے والی ووٹنگ محض ایک طریقہ کار (Procedural Vote) کا حصہ تھی۔ اس دوران ٹرمپ کے حامی تین ریپبلیکن سینیٹرز غیر حاضر تھے، اگر وہ حتمی ووٹنگ میں حصہ لیتے ہیں تو پوزیشن تبدیل ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں، سینیٹ سے مکمل منظوری کے بعد بھی اس قرارداد کو ریپبلیکنز کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) سے پاس کرانا ہوگا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ ویٹو (Veto) کو ناکام بنانے کے لیے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں دو تہائی (2/3) اکثریت کی ضرورت ہوگی، جو کہ فی الحال بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔ اس سے قبل ریپبلیکنز رواں سال سینیٹ میں ایسی 7 اور ایوانِ نمائندگان میں 3 کوششوں کو ناکام بنا چکے ہیں۔ سینیٹ کا یہ اقدام صدر ٹرمپ پر بڑھتے ہوئے شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کا عکاس ہے۔ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر شروع کی جانے والی اس جنگ نے عالمی توانائی کی مارکیٹ (تیل کی قیمتوں) کو تہس نہس کر دیا ہے اور خود امریکہ کے اندر مہنگائی اور زندگی گزارنے کی لاگت میں ناقابلِ برداشت اضافہ کیا ہے۔ ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز دونوں کا مطالبہ ہے کہ ٹرمپ کانگریس کے سامنے آ کر اس جنگ کا مقصد اور اس سے نکلنے کی حکمتِ عملی (Exit Strategy) واضح کریں، کیونکہ بغیر کسی واضح منصوبے کے امریکہ ایک طویل اور لاحاصل جنگ کی دلدل میں دھنس رہا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ صدر کی کارروائیاں مکمل طور پر قانونی اور بطور کمانڈر ان چیف ان کے دائرہ اختیار میں ہیں، تاکہ وہ امریکی افواج کا تحفظ کر سکیں۔ امریکی قانون (War Powers Act 1973) کے تحت صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر صرف 60 دنوں تک فوجی آپریشن کر سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے موقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ یکم مئی کو تہران کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، اس لیے جنگی کارروائیوں کے 60 دن ابھی پورے نہیں ہوئے۔ تاہم، اس صدارتی دعوے کے برعکس عملی طور پر صورتحال اب بھی کشیدہ ہے، جہاں امریکی افواج ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں اور تہران کی فورسز نے آبنائے ہرمز کو بلاک کر کے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا جاری رکھا ہوا ہے۔ تازہ ترین عوامی جائزوں کے مطابق، امریکی ووٹرز کی اکثریت اس جنگ کے سخت خلاف ہے، جبکہ قانونی ماہرین اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں