مظفرآباد، قاتلانہ حملے میں زخمی کالج پرنسپل جاں بحق ہو گئے
مظفرآباد (نامہ نگار) قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے ایمز کالج مظفرآباد کے پرنسپل ڈاکٹر حمزہ برہان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ مرحوم کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ سے تھا، جہاں بھارتی افواج کے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے باعث وہ ہجرت کر کے آزاد کشمیر آئے تھے۔ڈاکٹر حمزہ برہان کی غائبانہ نماز جنازہ گزشتہ روز برہان وانی شہید چوک مظفرآباد میں ادا کی گئی، جبکہ بعد ازاں دن 11 بجے برما ٹاؤن فاطمہ اسکول اسلام آباد میں نماز جنازہ کے بعد انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں مختلف سیاسی، سماجی، دینی اور تعلیمی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت اعوان اتحاد آزاد کشمیر و پاکستان کی قیادت نے شرکت کی اور شہید کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ارجمند گلزار المعروف حمزہ برہان ایک معزز دینی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا خاندانی پس منظر جماعت اسلامی سے وابستہ رہا۔ 2016ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے بڑھتے ہوئے ظلم و جبر کے خلاف انہوں نے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا اور البدر مجاہدین کے ساتھ وابستہ رہے۔ بعد ازاں وہ بیس کیمپ منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے پُرامن زندگی اختیار کرتے ہوئے تدریسی اور سماجی خدمات کا آغاز کیا۔شہید ڈاکٹر حمزہ برہان مظفرآباد میں ایک مقامی تعلیمی ادارے میں بطور پرنسپل خدمات انجام دے رہے تھے اور علمی، اخلاقی و سماجی حلقوں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ شہید کے والد اور بھائی کو بھی قابض بھارتی فوج نے گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے گھر سے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی معروف تفسیر “تفہیم القرآن” برآمد ہونے پر خاندان کو انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ کشمیری عوام کی ان قربانیوں کی ایک دردناک مثال قرار دیا جا رہا ہے جو انہوں نے ایمان، حریت اور حق پر ثابت قدمی کی پاداش میں برداشت کیں۔
شہید ڈاکٹر حمزہ برہان کی شہادت پر مختلف حلقوں کی جانب سے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے قاتلانہ حملے کی تحقیقات اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔