واپس جائیں

محکمہ صحت آزادکشمیر میں ڈاکٹروں کی تقرریاں کالعدم قرار

02 Jun 2026, 10:03 AM
محکمہ صحت آزادکشمیر  میں ڈاکٹروں کی تقرریاں کالعدم قرار

محکمہء صحت آزادکشمیر میں 141 سے زاٸد غیرقانونی طور پر تعینات شُدہ میڈیکل آفیسرز کی تقرریاں بروٸے نوٹیفیکیشن نمبر 2026 (4) (1) جریدہ عدالت العالیہ نے معطل کر دیں۔ پٹیشنر کی طرف سے نامور قانون دان شیخ عادل مسعود ایڈووکیٹ اور خواجہ محمد آفاق ایڈووکیٹ نے مقدمہ کی پیروی کی۔ پٹیشنر اُسامہ ظفر بھی سماعت کے وقت موجود تھے۔


مقدمہ بعنوانی "اسامہ ظفر وغیرہ بنام آزاد حکومت وغیرہ" کی سماعت معزز جج عدالت العالیہ جسٹس خالد رشید نے کی۔ کونسل پٹیشنر نے جاندار دلاٸل پیش کیے جس سے اتفاق کرتے ہوٸے معزز جسٹس عدالت العالیہ نے رٹ ابتداٸی سماعت کے لیے منظور کرتے ہوٸے محمکہ صحت میں غیر قانونی طور پر تعینات شُدہ جملہ میڈیکل آفیسرز کی تقرریوں کو غیرقانونی قرار دیتے ہوٸے ان کی تقرریوں کو معطل کر دیا۔ 


یاد رہے کہ محکمہ صحت میں ان تقرریوں کے حوالے سے بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں دیکھنے کو ملی تھیں جن میں محکمہء صحت میں 71 آسامیاں مشتہر کر کے 141 سے بھی ذاٸد تقرریاں کیں اور غیر ریاستی لوگوں کو بھی تقرر کر دیا۔ ڈاکٹر اسامہ ظفر نے ان بے ضابطگیوں کو بذریعہ عدالت چیلنج کیا اور ابتداٸی طور پر ایک اہم کامیابی حاصل کی۔ عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گٸ اور عوامی حلقوں نے اپنی عدلیہ پہ اعتماد کا بھی اظہار کیا۔ یہ رٹ نامور چاٸلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر اسامہ ظفر وغیرہ کی طرف سے داٸر کی گٸ تھی جس کی پیروی مایہ ناز قانون دان شیخ عادل مسعود ایڈووکیٹ اور خواجہ محمد آفاق ایڈووکیٹ نے کی۔

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں