میرپور جیل میں کرپشن و بدعنوانی کے سنگین الزامات، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ
آزادکشمیر کی جیل میں مبینہ کرپشن، قیدیوں سے بھاری رقوم کی وصولی اور منظم نیٹ ورک کے سنگین الزامات، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ
پانچ سال جھوٹے مقدمے میں جیل کاٹی، آواز اٹھانے پر منشیات کے مقدمے میں پھنسا دیا گیا، جیل میں 200 موبائل فون استعمال ہو رہے ہیں، بستر، کھانے اور موبائل کے نام پر قیدیوں سے پیسے وصول کیے جاتے ہیں، رقم کے عوض قیدیوں کو رات گزارنے کے لیے گھروں تک بھیجنے کا الزام، راجہ سلامت حسین کی کشمیر پریس کلب میں دھماکہ خیز پریس کانفرنس۔۔۔
راجہ سلامت حسین ولد کرامت حسین نے میرپورآزادکشمیر کی جیل میں مبینہ کرپشن، قیدیوں کے استحصال، غیرقانونی سرگرمیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کشمیر پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے راجہ سلامت حسین نے دعویٰ کیا کہ وہ پانچ سال تک ایک جھوٹے مقدمے میں جیل میں قید رہے، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر قیدیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں، مالی بے ضابطگیوں اور ایک منظم نیٹ ورک کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا۔۔
راجہ سلامت حسین کے مطابق ابتدا میں زمین کے تنازع پر ایس ایچ او عرفان بھٹی کی جانب سے ان کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور پریس کانفرنس کے ذریعے اپنا مؤقف سامنے رکھا تو انہیں منشیات کے مقدمے میں جیل بھجوا دیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جیل کے اندر متعدد بے گناہ اور مظلوم افراد قید ہیں، جبکہ وہاں مبینہ طور پر ظلم و زیادتی اور مالی استحصال کا سلسلہ جاری ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راجہ سلامت حسین نے دعویٰ کیا کہ جیل کے اندر تقریباً 200 موبائل فون استعمال ہو رہے ہیں، جبکہ قیدیوں سے موبائل فون استعمال کرنے کے عوض مبینہ طور پر 10 ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل میں داخل ہونے والے قیدیوں اور حوالاتیوں سے بستر کے نام پر پانچ ہزار روپے لیے جاتے ہیں، جبکہ کھانے پینے کے لیے بھی الگ رقم وصول کیے جانے کا الزام ہے۔۔۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جیل میں آنے والے حوالاتیوں سے مبینہ طور پر کام بھی لیا جاتا ہے اور ان سے مختلف مدات میں پیسے بھی وصول کیے جاتے ہیں۔ راجہ سلامت حسین نے سوال اٹھایا کہ اگر جیل کے اندر موبائل فونز، مالی وصولیوں اور دیگر مبینہ غیرقانونی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے تو متعلقہ حکام اور نگرانی کے ذمہ دار ادارے اس صورت حال سے لاعلم کیسے رہ سکتے ہیں۔
راجہ سلامت حسین نے اپنی پریس کانفرنس میں جیل کے اندر بی کلاس اور وی آئی پی بلاکس کے حوالے سے بھی سنگین الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بلاکس مخصوص سہولیات کے لیے بنائے گئے ہیں، لیکن ان کے دعوے کے مطابق وہاں مبینہ طور پر ڈرگ مافیا سے وابستہ افراد بھی رہائش پذیر ہیں۔۔انہوں نے الزام لگایا کہ جیل کے بعض اہلکار مبینہ طور پر ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور قیدیوں کو مالی ادائیگی کے عوض غیرمعمولی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کے بقول، مبینہ طور پر پیسے لے کر قیدیوں کو رات گزارنے کے لیے گھروں تک بھی بھیجا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان الزامات کی حقیقت جاننے کے لیے جیل کے ریکارڈ، ڈیوٹی روسٹرز، قیدیوں کی نقل و حرکت، سی سی ٹی وی فوٹیج اور متعلقہ مالی معاملات کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔۔
راجہ سلامت حسین نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس سے قبل چیف سیکرٹری آزادکشمیر کو بھی جیل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے خط لکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل کے معاملات پر تیار کی گئی ایک انکوائری رپورٹ مبینہ طور پر غائب کر دی گئی، جس سے شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے ہیں۔۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان مبینہ سرگرمیوں میں نچلی سطح کے عملے سے لے کر اعلیٰ حکام تک ایک پورا نیٹ ورک ملوث ہے اور ڈی آئی جی سمیت متعلقہ ذمہ داران کے کردار کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے ڈی آئی مرزا ارشاد کی رہائش جیل کے اندر ہونے اور ان کے بھائی کو جیل کے باہر دکان دیے جانے کا دعویٰ بھی کیا اور مطالبہ کیا کہ ان معاملات کی قانونی حیثیت اور متعلقہ قواعد کے مطابق مکمل چھان بین کی جائے۔
راجہ سلامت حسین نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ راجہ حسیب اور سپرنٹنڈنٹ فضل عباسی پر بھی مبینہ بدعنوانی اور ان سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے۔ تاہم ان الزامات کے حوالے سے متعلقہ افسران کا مؤقف سامنے آنا اور آزادانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق کی تصدیق ہونا ضروری ہے۔
راجہ سلامت حسین نے مزید دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے جیل کے اندر مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے حوالے سے ویڈیوز بنائیں تو ان پر 14 افراد کے ذریعے حملہ کروایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل کے اندر ہونے والی مبینہ سرگرمیوں کو منظرعام پر لانے کی کوششوں کے بعد انہیں مبینہ طور پر دباؤ اور خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔۔انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ حملے کے الزام، ویڈیوز کے مواد، جیل کے اندر موبائل فونز کے استعمال، قیدیوں سے مبینہ وصولیوں اور انکوائری رپورٹ کے غائب ہونے کے معاملے کی الگ الگ تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو۔پریس کانفرنس کے اختتام پر راجہ سلامت حسین نے اپنی جان و سلامتی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس پریس کانفرنس کے بعد انہیں کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری ان افراد پر عائد ہوگی جنہیں انہوں نے اپنے الزامات میں نامزد کیا ہے۔۔انہوں نے حکومت آزادکشمیر، چیف سیکرٹری، محکمہ داخلہ، انسپکٹر جنرل پولیس اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ جیل کے معاملات کی تحقیقات کسی ایسے غیرجانبدار ادارے یا افسر کے ذریعے کروائی جائیں جس کا متعلقہ جیل انتظامیہ سے براہِ راست تعلق نہ ہو۔ ان کے مطابق تحقیقات میں قیدیوں اور حوالاتیوں کے بیانات، مالی وصولیوں کے شواہد، موبائل فونز کی موجودگی، جیل میں رہائش اور آمدورفت کے ریکارڈ، مبینہ حملے اور انکوائری رپورٹ کی دستیابی کو خصوصی طور پر جانچا جائے۔