محکمہ داخلہ نے آزادکشمیر میں مزید 31 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کر دئیے
مظفرآباد : آزاد جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ نے جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JK-JAAC) سے وابستہ 31 افراد کے نام انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
گزشتہ روز مظفرآباد سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن
کے مطابق یہ اقدام کابینہ کے 5 جون 2026 کو منعقدہ 41ویں اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا، مذکورہ افراد کو جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن قرار دیتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 کی دفعہ 16(1) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کیے گئے ہیں۔ نوٹیفکیشن میں تنظیم کو اسی قانون کی دفعہ 12 کے تحت ممنوعہ قرار دیے جانے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں مجموعی طور پر 31 افراد کے نام درج ہیں، جن کا تعلق آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع سے بتایا گیا ہے۔ فہرست کے مطابق:
ضلع پونچھ: 19 افراد،ضلع مظفرآباد: 6 افراد،ضلع نیلم: 3 افراد،
ضلع باغ: 2 افراد،
ضلع بھمبر: 1 فرد ہے۔فورتھ شیڈول میں شامل افراد میں
جواد فیروز،
ابرار لطیف،
سید خان،
مصطفیٰ،
محمد ریاض خان،
طائف بشیر،
محمد رحمان خان،
جنید انور،
وقار یونس
عدنان نیاز،
منیر احمد،
خواجہ حمزہ،محمد اصغر،وحید مجید،سرور حسین،محمد۔فرید خان،محمد شیراز،ماجد عاشق،محمد پرویز خان،خواجہ حمزہ سفیر،منیر احمد،عدنان ناز،وقار یونس،
ماجد اسحاق
محمد شیراز
محمد فرید خان
سرور حسین
وحید مجید،
محمد پرویز، محمد ارسلان، مظہر أزاد شامل ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدام کابینہ کے 41ویں اجلاس کے فیصلے سے منسلک ہے۔ تاہم دستاویز میں ان 31 افراد کے خلاف انفرادی الزامات، شواہد، فورتھ شیڈول میں شمولیت کی الگ الگ وجوہات یا پابندیوں کی مکمل تفصیلات درج نہیں ہیں۔ اس لیے ان افراد کے خلاف کسی مخصوص جرم کے ارتکاب کو محض اس نوٹیفکیشن کی بنیاد پر ثابت شدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس اقدام کے بعد یہ سوالات اہمیت اختیار کر گئے ہیں کہ فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے افراد کے لیے قانونی طریقۂ کار کیا ہوگا، ان پر کون سی پابندیاں عائد ہوں گی اور متعلقہ افراد کو فیصلے کے خلاف نظرثانی یا قانونی چارہ جوئی کے کیا مواقع میسر ہوں گے۔ ان امور پر محکمہ داخلہ کی جانب سے مزید وضاحت سامنے آنے سے صورتِ حال زیادہ واضح ہو سکتی ہے۔