میرپور لاری اڈہ مافیا میں کھلبلی، ہائی کورٹ نے حکم امتناعی خارج کر دیا
میرپور (30 اکتوبر 2026): آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے سرکٹ میرپور نے میرپور بس اسٹینڈ سے متعلق رٹ پٹیشن کو ابتدائی مرحلے پر خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سابقہ لیز معاہدہ 30 جون 2023 کو ختم ہو چکا ہے، اس لیے نئے لیز معاہدے کے لیے تازہ بولی/ٹینڈر کا عمل قانون کے مطابق کیا جا سکتا ہے۔
عدالت کے سامنے ریکارڈ کے مطابق سیکٹر A/4 میرپور میں 35 کنال اراضی بس اسٹینڈ کی تعمیر کے لیے 19 اپریل 2001 کو درخواست گزاروں کے حق میں لیز پر دی گئی تھی۔ معاہدہ 25 سال کے لیے تھا، جو 30 جون 2023 کو ختم ہوگیا۔ درخواست گزاروں نے لیز میں توسیع کے لیے درخواستیں جمع کرائیں جو زیرِ التوا رہیں، جبکہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے بس اسٹینڈ/ٹول ٹیکس کی وصولی کے لیے نئے ٹینڈر اور بولی کا عمل شروع کیا گیا۔
درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ ان کی توسیع کی درخواستوں کا فیصلہ کیے بغیر نیلامی کا اعلان کرنا غیر قانونی ہے، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ لیز کی مقررہ مدت ختم ہوچکی ہے اور درخواست گزاروں کو نئی بولی کے عمل میں حصہ لینے سے نہیں روکا گیا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بس اسٹینڈ لیز ہولڈرز کو اضافی 2,820 مربع فٹ اراضی دفاتر کی تعمیر کے لیے دی گئی تھی، تاہم اس پر دفاتر کے علاوہ دکانیں بھی تعمیر کی گئیں۔ سرکاری مؤقف کے مطابق لیز ہولڈرز نے دکانوں کا کرایہ بھی ادا نہیں کیا، جبکہ جنرل بس اسٹینڈ میونسپل کارپوریشن نے اپنے وسائل سے تعمیر کیا۔
عدالت کے روبرو میئر میونسپل کارپوریشن میرپور نے یقین دہانی کرائی کہ بس اسٹینڈز کے لیے تین ماہ کے اندر نئے لیز معاہدوں کا باقاعدہ بولی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ بولی کا پورا عمل آزاد، منصفانہ، شفاف اور قانون کے مطابق ہو اور کسی بھی فریق کے اثر و رسوخ کے بغیر عوام کے مفاد کو مقدم رکھا جائے۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار اگر نئی بولی میں حصہ لینا چاہیں تو انہیں بھی دیگر امیدواروں کی طرح اپنی بولیاں جمع کرانے کا حق حاصل ہوگا، تاہم کامیاب بولی دہندگان کو ہی ٹول ٹیکس/آکٹرائے کی وصولی یا متعلقہ لیز الاٹ کی جائے گی۔
عدالت نے قرار دیا کہ رٹ پٹیشن میں کوئی ایسی غیر قانونی کارروائی یا قانونی خلاف ورزی ثابت نہیں ہوئی جس کی بنیاد پر آئینی اختیار استعمال کیا جائے۔ چنانچہ رٹ پٹیشن ابتدائی مرحلے پر خارج کردی گئی اور اس سے قبل دیا گیا عبوری ریلیف بھی ختم (vacate) کردیا گیا۔
سرکٹ میرپور، آزاد کشمیر ہائی کورٹ — 30 اکتوبر 2026