واپس جائیں

ایران امریکہ کشیدگی میں کمی کی کوشش، قطری وفد تہران پہنچ گیا - جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار

30 Oct 2026, 03:38 PM
ایران امریکہ کشیدگی میں کمی کی کوشش، قطری وفد تہران پہنچ گیا - جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار

تہران : ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کے لیے سفارتی رابطوں میں پیش رفت کی کوششیں جاری ہیں، اس سلسلے میں ایک قطری وفد جمعہ 30 اکتوبر کی صبح ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گیا، جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقاتیں اور مذاکرات کرے گا۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق قطری وفد کی قیادت قطر کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کے ایک سینئر مشیر کر رہے ہیں۔ وفد کے دورے کے دوران ایران اور قطر کے دوطرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ تاہم ارنا نے اپنی رپورٹ میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات یا معاہدے کے لیے قطری وفد کے کسی خصوصی کردار کا ذکر نہیں کیا۔ دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک باخبر عہدے دار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ قطری ثالث ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کی کوششوں کے سلسلے میں تہران کا دورہ کر رہے ہیں اور اس معاملے پر واشنگٹن کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔ روئٹرز کے مطابق مذاکرات سے واقف ایک عہدے دار نے بتایا کہ قطری وفد نے 25 اکتوبر کو تہران کے گزشتہ دورے کے دوران ایرانی حکام کو ایک مجوزہ امن منصوبہ پیش کیا تھا، تاہم ایک سینئر ایرانی عہدے دار نے ان تجاویز کو ناقابلِ قبول قرار دیا تھا اور واضح کیا تھا کہ ایران اپنے جوہری مؤقف پر قائم رہے گا۔رپورٹ کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے آغاز ہی سے جوہری معاملے کو ایجنڈے میں شامل کیا جائے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکہ پہلے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کرے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھائے۔اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا تھا کہ تہران ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے مجوزہ سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا میں نائب صدر جے ڈی وینس کے ایران کے ساتھ رابطوں سے متعلق خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان رابطوں کا مقصد طبی سامان کی فراہمی سے متعلق بات چیت تھا۔ تاہم امریکی میڈیا نے ان رابطوں کو ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کی کوششوں سے جوڑا ہے۔قطری وفد کی تہران آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات کے باوجود جنگ کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور تیل کی برآمدات سے متعلق معاملات تاحال مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں